20 مارچ 2012 - 20:30

پاکستان کي پارليمنٹ نے امريکا سے مطالبہ کيا ہے کہ وہ ڈرون حملے پر پاکستاني عوام سے معافي مانگے-

ابنا: پاکستان کي پارليمنٹ نے امريکا سے معافي مانگنے کا مطالبہ اس وقت کيا جب منگل کو قومي سلامتي سے متعلق پارليماني کميٹي نے اپني رپورٹ مشترکہ اجلاس ميں پيش کي –مذکورہ کميٹي کے سربراہ سينٹر رضا رباني نے کميٹي کي سفارشات پيش کرنے سے پہلے اپني تقرير ميں کہا کہ رپورٹ ميں ملک کي قومي سلامتي سے متعلق ترجيحات شامل ہيں - اس کے بعد انہوں نے اجلاس ميں ايک ايک کرکے ترجيحات کا ذکر کيا اور تجاويز پيش کيں –مذکورہ تجاويز ميں کہا گيا ہے کہ امريکا سلالہ حملے پر پاکستاني عوام سے غير مشروط معافي مانگے اور حملے کے ذمہ داروں کو سزادي جائے اور ساتھ ہي پاکستان کو اس بات کي يقين دہاني کرائي جائے کہ آئندہ اس طرح کے حملے نہيں کئے جائيں گے –کميٹي کي سفارشات ميں کہا گيا ہے کہ پاکستان کے اندر کوئي خفيہ يا اعلانيہ آپريشن برداشت نہيں کيا جائے گا ، وزارت دفاع اور ايساف کے درميان مفاہمت کي يادداشت پر نظر ثاني کي جا ئے اور يہ کہ پاکستان کي سرزمين پر ڈرون حملے نہيں ہونے چاہئے کيونکہ يہ حملے مقامي لوگوں ميں انتہا پسندي کے جذبات کو جنم ديتے ہيں –سفارشات ميں يہ بھي کہا گيا ہے کہ پاکستان کے ايٹمي پروگرام پر کسي بھي طرح کا کوئي سمجھوتہ نہيں ہوسکتا ، سفارشات ميں اس بات پر بھي تاکيد کي گئي کہ  ايران سے گيس پائپ لائن منصوبے پر تن دہي کے ساتھ کام ہو -.......

/169